حدیث نمبر: 12806
(وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ: ”اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ“، إِذْ قَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يَنْطَلِقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، عُثْمَانُ يَشُكُّ، فَيَحْذِفُنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ فَيَقْتُلُنِي، مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي؟ قَالَ: ”يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12806
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 5548 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:20490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20764»