الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ باب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَعَثَ نَبِيَّهُ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ إِلَى الْجَنَّةِ فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودَ وَإِذَا يَهُودِيٌّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ التَّوْرَاةَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكُوا، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ؟)) قَالَ الْمَرِيضُ: إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا، ثُمَّ جَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ فَقَالَ: هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ((لُوا أَخَاكُمْ))سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک بندے کو جنت میں داخل کرنے کے لیے بھی بھیجا ہے، بات یہ ہے کہ وہ (نبی) گرجا گھر میں داخل ہوا، وہاں یہودی لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان پر تورات پڑھ رہا تھا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات تک پہنچے تو رک گئے، کونے میں ایک بیمار آدمی بیٹھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”تم کیوں رک گئے ہو؟“ اس مریض آدمی نے کہا: ”آگے ایک نبی کا ذکر ہے، اس لیے یہ رک گئے ہیں،“ پھر وہ مریض گھسٹتا ہوا آگے کو بڑھا، یہاں تک کہ تورات پکڑ لی اور اس کو پڑھنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفات بھی پڑھ دیں اور پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی اور آپ کی امت کی صفات ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اس کے رسول ہیں،“ پھر وہ آدمی فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کو سنبھالو (اور اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرو)۔“