الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
قتَالُ الْمُسْلِمِينَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ باب: مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 12799
۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((اِذَاالْمُسْلِمَانِ حَمَلَاَحَدُھُمَاعَلٰی صَاحِبِہ ٖالسِّلَاحَ فَہُمَاعَلٰی طَرَفِ جَہَنَّمَ، فَاِذَا قَتَلَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہٗ،دَخَلَاھَاجَمِیْعًا۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمان جب ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … جب آدمی گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے،بلکہ اس کا ارتکاب کرنے کے لیے کوشش شروع کر دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس طرح کے مجرم کی ہی ہوتی ہے، اگرچہ وہ گناہ اس سے سرزد نہ ہو پائے، ہاں اگر وہ اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کا معاملہ اور ہو گا۔