الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
تَفَرُّقَ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ باب: امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
حدیث نمبر: 12794
۔ وَعَنْ عَرْفَجَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمْ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہٗبِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ فتنے اور ہنگامے ہوں گے، جب مسلمان متحد ہوں تو جو شخص ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے قتل کر ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے جماعت کو بہت اہمیت دی ہے، جہاں تک ہو سکے، اسی کا اہتمام کرنا چاہیے، غور کریں کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وقت ایک ارب سے زائد مسلمان دنیا میں موجود ہیں، لیکن مسلمانوں کا اجتماعی اور جماعتی نظام موجود نہیں ہے۔