حدیث نمبر: 12787
۔ وَعَنْ اَنَسٍ اَیْضًا رضی اللہ عنہ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَعِنْدَہٗغُلَامٌمِنَالْاَنْصَارِیُقَالُ لَہُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنْ یَّعِشْ ہٰذَا الْغُلَامُ فَعَسٰی اَنْ لَّا یُدْرِکَہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد:13419 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں قیامت قائم ہونے سے مراد اس صدی کا گزر جانا یا مخاطَب لوگوں کا فوت ہو جانا ہے، جیسا کہسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشاء پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہٖ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12787
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2953 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13386 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»