الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
اَلْبَابُ الأَوَّلُ فِي قُرْب مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ السَّاعَةِ باب: اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ“ وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ثُمَّ قَالَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ فَرْسَيْ رَهَانٍ“ ثُمَّ قَالَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ طَلِيعَةً فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يُسْبَقَ أَلَاحَ بِثَوْبِهِ أُوتِيتُمْ أُوتِيتُمْ“ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا ذَلِكَ“سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔