الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
اَلْبَابُ الأَوَّلُ فِي قُرْب مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ السَّاعَةِ باب: اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان ۔
حدیث نمبر: 12779
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ“ وَمَدَّ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں: (۱) جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسری کے قریب اور ملی ہوئی ہیں،یہی معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کا ہے، (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے مابین اتنا فاصلہ رہ گیا ہے، جتنی درمیانی انگلی شہادت والی انگلی سے بڑی ہے۔