حدیث نمبر: 12772
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَصِيفٌ يَقُولُ ”الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا رافع بن عمرو مزنی بیان کرتے ہیں کہ میں بلوغت کے قریب تھا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: عجوہ اور کھجور کا درخت جنت میں سے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … عجوہ کھجور کی خاصیات کے بارے میں مختلف تحقیقات پیش کی جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث پر یقین رکھ کر کھائے گا۔ عام طور پر کھجور میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، کیلوریز، سوڈیم، منگنیشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر اور کلورین پایا جاتا ہے۔ یہ سستی ٹانک ہے، عجوہ کھجور نہار منہ زہروں کا تریاق ہے، قولنج کو فائدہ دیتی ہے، گردے اور رحم کے دردوں میں مفید ہے، روزانہ سات عجوہ کھجوریں کھانا کوڑھ سے شفا کا سبب بنتا ہے، دل کے دورے میں سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانی چاہئیں۔ یہ جسم کے ہر حصے کے لیے یکساں مفید ہے، اس کی سکنجبین اور اس کے ساتھ بادام اور خشخاص کھانا بہت فائدہ دیتا ہے۔ زخموں کو مندمل کرتی ہے، اسہال دور کرتی ہے، یرقان کے لیے اکسیر ہے، پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے، اس سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں، کھجور کے ساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔ علاوہ ازیں یہ کئی فوائد اور خاصیات پر مشتمل ہے۔
کئی احادیث میں عجوہ کھجور کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12772
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15593»