الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
خَاتِمَةٌ فِي فَضَائِلِ الشَّجَرِ وَغَرْسِهِ خُصُوصًا النخيل باب: خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا تَطْرَحُ وَرَقَهَا“، قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَدْوِ، وَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ! مَا مَنَعَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ، فَوَاللَّهِ! لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَاسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایک ایسے درخت کی مانند ہے، جس کے پتے جھڑتے نہیں ہیں۔ لوگ جنگل کے مختلف درختوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے، میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، مگر کم سن ہونے کی وجہ سے بولنے میں جھجکتا رہا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: بیٹے! تمہیں بات کرنے سے کون سی بات مانع رہی؟ اللہ کی قسم! اگر تم یہ بات وہاں کہہ دیتے تو یہ آج میرے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوتی۔
امام مبارکپوریl نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لما بَرَکَتُہُ کَبَرْکَۃِ الْمُسْلِمِ۔))(بخاری: ۵۴۴۴) یعنی: ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی برکت، مسلمان کی برکت کی طرح ہے۔ آپ کی مراد کھجور کا درخت تھا۔
کھجور کے تمام اجزاء مبارک ہیں اور ہر وقت ان برکات کا حصول ممکن ہے، جونہی کھجور کا دانہ وجود پکڑتا ہے، اس وقت سے لے کر خشک ہونے تک اس کی مختلف انواع کھائی جاتی ہے، پھر اس کی گٹھلی جانوروں کے چارہ میں استعمال کی جاتی ہے اور پتوں سے رسیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح مومن کی برکتیں ہر قسم کے حالات میں عام ہونی چاہئیں، اس کا وجود ایسا ہو کہ وہ خودبھی اور دوسرے لوگ بھی اس کے وجود سے اس کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد مستفید ہو سکیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۹)