الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
خَاتِمَةٌ فِي فَضَائِلِ الشَّجَرِ وَغَرْسِهِ خُصُوصًا النخيل باب: خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
حدیث نمبر: 12768
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، فَمَا هِيَ؟“، قَالَ: فَقَالُوا وَقَالُوا فَلَمْ يُصِيبُوا، وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایک ایسے درخت جیسی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ کون سا درخت ہوسکتا ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے مختلف درختوں کے نام لیے، مگر وہ صحیح جواب نہ بتلا سکے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، مگرمیں جھجک گیا، بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔