الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
خَاتِمَةٌ فِي فَضَائِلِ الشَّجَرِ وَغَرْسِهِ خُصُوصًا النخيل باب: خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
وَعَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارَةٍ فَقَالَ: ”إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ“، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“مجاہد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا، دروانِ سفر میں نے ان سے صرف ایک حدیث سنی، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ میں نے کہنا چاہا کہ اس درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے، مگر میں نے دیکھا کہ میں حاضرین مجلس میں سب سے کم سن ہوں، اس لیے میں خاموش رہا، بعدمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرما دیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔