الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الرَّابِعُ فِيمَا وَرَدَ فِي وَجُ وَهُوَ وَادٍ بَيْنَ الطَّائِفِ وَمَكَّةَ باب: چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي وَادِيًا وَقَفَ حَتَّى اتَّفَقَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ“ وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفَسیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں لیہ سے واپس آرہے تھے، جب ہم بیری کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کالے رنگ کے چھوٹے پہاڑ کے کونے میں بیری کے بالمقابل کھڑے ہو کر ایک وادی کی طرف غور سے دیکھا اور وہاں رکے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وادیٔ وج کا شکار اور جھاڑیاں بھی حرم ہیں اور اللہ کے لیے لوگوں پر حرام کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ آپ کے محاصرہ طائف و ثقیف سے پہلے کا ہے۔