حدیث نمبر: 12745
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعَ قِبَلَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ“، وَاطَّلَعَ مِنْ قِبَلِ كَذَا فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے حوض کے کنارے پر موجود ہوں گا لوگوں کو پیچھے ہٹاؤں گا تاکہ اہل یمن قریب آکر آسانی سے پانی پی سکیں، میں اپنا عصا لوگوں کے اوپر سے لہراؤں گا۔ آپ سے حوض کو ثر کے عرض کے بارے میں پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا عرض میری اس جگہ سے عمان تک کے برابر ہوگا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے مشروب کی ہیئت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، جنت سے دو پر نالے بہہ کر اس میں گررہے ہیں گے، ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اور بعد میں یمن سے جتنے لوگ مسلمان ہو کر آئے وہ اچھی صفات سے متصف تھے، جیسے اویس قرنی اور ابو مسلم خولانی ہیں، ان کے دلوں میں سلامتی اور ایمان میں قوت تھی۔ ایمان کو ان کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایمان مکمل تھا۔ اہل یمن کی عظمت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اویس نامی ایک یمنی آدمی آئے گا، وہ یمن میں اپنے اہل و عیال میں سے صرف والدہ کو چھوڑ کر آئے گا،اسے پھل بہری کی بیماری تھی، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے ایک درہم یا دینار کے بقدر جسم کے حصے کے علاوہ اس کی بیماری کو دور کر دیا، تم میں سے جو آدمی اسے ملے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے لیے اس سے مغفرت کی دعا کروائے۔ (مسلم) کتنی عظیم منقبت ہے کہ صحابہ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اویس قرنی سے اپنے لیے بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12745
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2301 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21946»