حدیث نمبر: 12744
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ“، فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ، فَقَالَ: ”مِنْ مُقَامِي إِلَى عُمَانَ“، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ: ”أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَنْشَعِبُ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو عامر اشعری سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: بہترین قبیلہ بنو اسداور اشعریوں کا ہے اوریہ لوگ میدان قتال سے پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگتے اور خیانت نہیں کرتے، وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ عامر نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا معاویہ کو بیان کی،انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح نہیں بلکہ یوں فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور ان کا میرے ساتھ تعلق ہے۔ عامر نے کہا: میرے والد نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح بیان نہیں کیا بلکہ یوں کہا کہ وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ نے کہا: تم اپنے والد کے بیان کردہ الفاظ کو بہتر جانتے ہو، عبداللہ بن اما م احمد نے کہا یہ عمدہ احادیث میں سے ہے اس کو صرف جریر نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12744
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فيه مجھولان، عبد الله بن ملاذ، ومالك بن مسروح، اخرجه الترمذي: 3947 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22790»