الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي فَضْلِ أَهْلِ الْيَمَنِ باب: فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْعَنْ أَهْلَ الْيَمَنِ فَإِنَّهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ، كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، حَصِينَةٌ حُصُونُهُمْ، فَقَالَ: ”لَا“، ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَعْجَمِيِّينَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا مَرُّوا بِكُمْ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ يَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ فَإِنَّهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ“سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ اہل یمن پر لعنت کریں، کیونکہ وہ بڑے جنگجو ہیں، تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان کے قلعے بھی مضبوط ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں ان پر لعنت نہیں کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجمیوں پر لعنت فرمائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ یمنی اپنی عورتوں کو اپنے ساتھ لے کر اور اپنے بچوں کو کاندھوں پر اٹھائے تمہارے قریب سے گزریں گے، یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔