حدیث نمبر: 12740
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ إِذْ قَالَ: ”يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَأَنَّهُمُ السَّحَابُ، هُمْ خِيَارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ“، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، فَسَكَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، فَسَكَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ كَلِمَةً ضَعِيفَةً: ”إِلَّا أَنْتُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سیدناجبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ کے راستے پر تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، گویا کہ وہ بادل کے ٹکڑوں کی مانند ہیں، یہ روئے زمین کے تمام لوگوں سے زیادہ بھلائی والے ہیں۔ ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ اس کی بات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر خاموش رہے، اس نے تیسری بار کہا: اے اللہ کے رسول! اور کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ تو آپ نے تیسری مرتبہ آہستہ سے فرمایا: ما سوائے تمہارے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12740
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16901»