حدیث نمبر: 12738
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ فَهُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ایمان یمنیوں کاہے، فقاہت بھی یمن کی اور حکمت و دانائی بھی یمن کی بہتر ہے، تمہارے پا س اہل یمن آئے ہیں، یہ بہت زیادہ نرم دل ہیں اور کفر مشرق کی طرف زیادہ ہے اور فخراورتکبر اونٹ اورگھوڑے پالنے والوں اور دیہاتی لوگوں میں ہے اور بکریاں پالنے والوں میں سکینت اور نرم خوئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … فقہ سے مراد دین کی سمجھ بوجھ ہے اور حکمت سے مراد احکام شریعت کا وہ علم ہے، جس سے بصیرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو، اس سے حق کے ثبوت اور اس پر عمل کرنے میں مدد ملے اور اس کی روشنی میں بندہ خواہش پرستی اور باطل پرستی سے محفوظ رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12738
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 4389، ومسلم: 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8929»