حدیث نمبر: 12733
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَخِيهِ أَنَّ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ”أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ“، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ أَوْ يَأْتِيَهُ، قَالَ: ”فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَاهُ كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگوں کے اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کی جگہ ہے، تم وہاں جا کر نماز پڑھا کرو، وہاں کی ایک نماز باقی مقامات کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ انہوں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی وہاں نہ جا سکے یا سفر کی مشقت برداشت نہ کر سکے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ وہاں جلانے کے لیے زیتون کا تیل بھجوا دے، جس نے وہاں تیل بھجوا دیا، اس نے گویا وہاں نماز ادا کر لی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12733
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، زياده بن ابي سودة ، قال الذھبي: في النفس شيء من الاحتجاج به، واورد له ھذا الحديث، وقال: ھذا حديث منكر جدا، ثم نقل عن عبد الحق قوله فيه: ليس ھذا الحديث بقوي، اخرجه ابوداود: 457 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28178»