حدیث نمبر: 12727
وَعَنْ شُرَيْحٍ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ قَالَ ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ فَقَالُوا الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

شریح بن عبید سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عراق میں تھے اور ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہونے لگا،لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپ ان پر لعنت کریں، انہوں نے کہا: نہیں، نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … ابدال کے بارے میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، ان تمام کی اسانید ضعیف ہیں اور وہ اس قابل نہیں ہیں کہ مطلب پورا ہو سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12727
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يُدرك عليا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 896»