حدیث نمبر: 12725
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل شام خرابیوں اور فساد میں مبتلا ہوگئے، تو تم مسلمانوں میں کوئی بھلائی نہ ہوگی اور میری امت میں سے ایک گروہ کی اللہ کی طرف سے ہمیشہ مدد کی جائے گی، ان سے اختلاف کرنے والے قیامت تک ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے ۔

وضاحت:
فوائد: … علاقہ شام مبارک علاقوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے علاوہ اسے اپنی ظاہری اور باطنی خیرات و برکات کا مرکز بنایا ہے، علاقے کی زرخیزی و شادابی تو واضح ہے اور باطنی طور پر یہ علاقہ انبیا کی سر زمین رہا ہے۔ لوگ بالعموم فطری طور پر خیر چاہنے والے اور دین حق کے پیروں ہیں، بالخصوص اب اردن اور لبنان کے عوام میں خیر پائی جاتی ہے۔ آخر میں عیسی کا نزول اسی علاقہ میں ہو گا۔ اسی وجہ سے اس علاقے کی طرف ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہمیں جو سیاسی اور غیر سیاسی فتنے نظر آتے ہیں، یہ سب وقتی ہیں اور ان سے کوئی علاقہ بھی خالی نہیں ہے، یہ ان شاء اللہ وقت آنے پر ختم ہو جائیں گے۔
ایک مثال یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمَلَاحِمِ اَرْضٌ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ۔)) … جنگوں اور فتنوں کے دنوں میں مسلمان ایک ایسی جگہ خیمہ زن ہوں گے، جسے غوطہ کہتے ہوں گے۔ (ابوداود: ۴۶۴۰)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ فُْسَطَاطَ الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْمَلْحَمَۃِ بِالْغُوْطَۃِ، اِلٰی جَانِبِ مَدِیْنَۃٍ یُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ مِنْ خَیْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ۔)) … جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوطہ ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔ (ابوداود: ۴۲۴۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12725
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابن ماجه: 6، والترمذي: 2192 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20632»