الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْفَضْلُ الأولُ فِي فَضَائِلِ الشَّامِ مُطلَقًا باب: دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 12722
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ إِذْ قَالَ ”طُوبَى لِلشَّامِ“ قِيلَ وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے مختلف اشیاء پر مکتوب قرآن مجید جمع کر رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرشتوں نے اپنے پروں کو اس پر پھیلارکھا ہے۔