حدیث نمبر: 12720
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بَيْنَا أَنَا فِي مَنَامِي أَتَتْنِي الْمَلَائِكَةُ فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا فَالْإِيمَانُ حَيْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس فرشتے آئے، میں نے خواب دیکھا کہ انہوں نے کتاب کا عمود میرے تکیے کے نیچے سے کھینچ لیا، پھر اس کو لے کر شام کی طرف کا قصد کیا، خبردار اصل ایمان شام کے اس علاقے میں ہو گا، جہاں فتنے بپا ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: معبرین اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جو آدمی خواب میں عمود دیکھے گا، اس سے مراد دین یا قابل اعتماد شخص ہو گا، اس لیے انھوں نے عمود کی تعبیر دین اور سلطنت کی صورت میں کی ہے۔ (فتح الباری: ۱۲/ ۴۰۳)
عمود کے مختلف معانی ہیں، مثال کے طور پر: صبح کی کرن، سہارا، ستون، قابل اعتماد سردارِ قوم، آسمان میں چمکنے والا بگولا، موٹا بانس وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12720
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه الطبراني في مسند الشاميين : 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17928»