حدیث نمبر: 12715
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری گفتگو یہ تھی کہ تم حجاز اہل نجران کے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور یاد رکھو کہ سب سے برے لوگ وہ ہیں،جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔

وضاحت:
فوائد: … جزیرۃ العرب: بحرہند، بحر شام، پھر دجلہ فرات نے جتنے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کرآبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ جزیرۃ العرب کہلاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (بخاری، مسلم) … مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاز کی سرزمین سے یہودو نصاری کو جلا وطن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ کیا۔ اس وقت خیبر کی زمین تو اللہ تعالی، رسول اللہ اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی۔ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو خیبر میں رہنے دیا جائے، وہ کام کریں گے اور نصف پیداوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تم لوگوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیں گے۔ سو وہ وہیں رہے، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیما او ر اریحا کے مقام کی طرف جلا وطن کر دیا۔ (بخاری: ۲۳۳۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12715
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الدارمي: 2498، والبزار: 439، والحميدي: 85 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»