حدیث نمبر: 12708
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي“ قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ”لِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى فَلِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع قبرستان والوں کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں تین مرتبہ ان کے حق میں دعائیں کیں، جب دوسری رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! میری سواری تیار کرو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور میں پیدل چلا، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے پاس جا پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے اور میں نے سواری کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اہل بقیع! تم جس حال میں ہو، تمہیں مبارک ہو، اِدھر تو رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چڑھے آ رہے ہیں، ہر بعد والا فتنہ پہلے والے سے سخت ہے، لہذا تم جس حالت میں ہو، تمہیں یہ مبارک ہو۔

وضاحت:
فوائد: … بقیع قبرستان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے لیے بخشش طلب کرنے کے لیے اس قبرستان کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12708
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16092»