الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل مَسْجِد قباء وَالصَّلَاةِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيحُ باب: مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي ثُمَّ قُلْتُ ارْكَبْ أَيْ عَمِّ قَالَ أَيِ ابْنَ أَخِي لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَرَكِبْتُ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَهُ فَيُصَلِّيَ فِيهِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي قَالَ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِعبداللہ بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں قبا ء میں واقع مسجد بنی عمرو بن عوف میں نماز پڑھ کر اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس آرہا تھا، راستے میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پیدل چلتے مل گئے، میں نے انہیں دیکھا تو میں اپنے خچر سے اترآیا اورمیں نے کہا: چچا جان! آ پ اس پر سوار ہو جائیں، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو ہوسکتا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل چل کرجاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر وہاں نماز ادا کی، پس میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدل جاتے دیکھا ہے، میں بھی پیدل ہی جاؤں اور انہوں نے سوار ہونے سے انکا ر کر دیا اور اسی طرح روانہ ہوگئے۔