حدیث نمبر: 12704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي ثُمَّ قُلْتُ ارْكَبْ أَيْ عَمِّ قَالَ أَيِ ابْنَ أَخِي لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَرَكِبْتُ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَهُ فَيُصَلِّيَ فِيهِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي قَالَ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں قبا ء میں واقع مسجد بنی عمرو بن عوف میں نماز پڑھ کر اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس آرہا تھا، راستے میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پیدل چلتے مل گئے، میں نے انہیں دیکھا تو میں اپنے خچر سے اترآیا اورمیں نے کہا: چچا جان! آ پ اس پر سوار ہو جائیں، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو ہوسکتا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل چل کرجاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر وہاں نماز ادا کی، پس میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدل جاتے دیکھا ہے، میں بھی پیدل ہی جاؤں اور انہوں نے سوار ہونے سے انکا ر کر دیا اور اسی طرح روانہ ہوگئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5999»