الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مُجْتَمِعَةٌ باب: تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
حدیث نمبر: 12699
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ جَاءَ مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ، قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى.“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر بن عبدالرحمن بن حارث سے روایت ہے کہ ابو بصرہ غفاری کی طور سے واپسی پرسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے کہا: کہاں سے آرہے ہو؟ انھوں نے کہا: طور سے، میں وہاں نماز ادا کرنے گیا تھا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم روانگی سے قبل مجھ سے ملتے تو تم وہاں نہ جاتے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پالانوں کو نہ کسا جائے، یعنی سفر کا خصوصی اہتمام نہ کیا جائے، مگر تین مساجد کی طرف، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔