حدیث نمبر: 12687
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَادَ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَةِ إِلَى الْمَقْصُورَةِ، وَزَادَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”نَبْغِي نَزِيدُ فِي مَسْجِدِنَا“ مَا زِدْتُ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں معروف ستون سے مقصورہ (پتھر) تک اضافہ کیا تھا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اضافہ کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہم اپنی اس مسجد میں توسیع کرنا چاہتے ہیں تو میں اس میں توسیع نہ کرتا۔

وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد ِ نبوی کی تعمیرِ نو کی تو فتوحات اور مال غنیمت کی کثرت کے باوجود انھوں نے سادگی کو برقرار رکھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں مسجد میں جو زینت اختیار کی ممکن ہے کہ وہ غلو اور ممنوعہ سجاوٹ سے کم ہو، بہرحال بعض صحابہ نے اس معاملے میں ان پر انکار بھی کیا تھا۔ مساجد کو مزین کرنے والا سب سے پہلا شخص ولید بن عبد الملک تھا، یہ صحابہ کا آخری زمانہ تھااور اکثر اہل علم فتنے کے خوف کی وجہ سے خاموش رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12687
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر بن حفص العمري، اخرجه البزار: 157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 330»