الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْفَضْلُ الرَّابِعُ مَنْ زَادَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم باب: فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ، وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی اینٹوں سے تعمیر ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ والی بنیادوں پر ہی اسکی بنیادیں اٹھائیں اور انہوں نے اسے اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی کے بنائے، بعد ازاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے تعمیر کیا اور اس میں بہت زیادہ توسیع بھی کی، انہوں نے اس کی دیوار وں کو منقش پتھروں سے چونا گچ کیا اور اس کے ستون منقش پتھروں سے اور چھت ساگواں کی لکڑی سے بنائی۔