الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْفَضْلُ الثَّالِثُ ما جَاءَ فِي أَصْلِ مَسْجِدِ النَّبِيُّ ﷺ وَبَنَائِهِ باب: فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شَقَّتْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بڑی اینٹ اپنے پیٹ پرلگا کر اٹھائے آرہے تھے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کاا ٹھانا مشکل ہور ہاہے، اس لیے میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم اور اٹھا لاؤ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔