الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْفَضْلُ الثَّالِثُ ما جَاءَ فِي أَصْلِ مَسْجِدِ النَّبِيُّ ﷺ وَبَنَائِهِ باب: فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ثَامِنُونِي بِهِ“، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ: ”أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةْ“، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی والی جگہ بنو نجار کی ملکیت تھی ، اس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم مجھ سے اس پلاٹ کی قیمت طے کرو ۔ انہوں نے کہا : ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کی تعمیر کر رہے تھے اور وہ لوگ تعمیر کے سلسلہ میں چیزیں اٹھا اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت یہ اشعار پڑ رہے تھے : أَلا إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْأخِرَہْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُھَاجِرَہ ۔ (خبردار ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، اے اللہ ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے ۔) مسجد نبوی کی تعمیر سے قبل جہاں نماز کا وقت ہو جاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں نماز ادا کر لیا کرتے تھے ۔