الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الفَضْلُ الثَّانِي حُكْمُ دُخُولِ الْمُشْرِكِ الْمَسْجِدَ وَبَيَانُ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أَسْسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ ﷺ بِالْمَدِينَةِ باب: فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: اخْتَلَفَ رَجُلَانِ أَوِ امْتَرَيَا، رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، قَالَ الْخُدْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْعَمْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ”هُوَ هَذَا الْمَسْجِدُ لِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: فِي ذَاكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ“ [سورة التوبة: 108]سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو خدرہ اور بنو عمر بن عوف کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا کہ قرآن کریم میں جس مسجد کے متعلق آیا ہے کہ اس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس سے کون سی مسجد مراد ہے؟ بنو حذرہ کے شخص نے کہا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور بنو عمر بن عوف کے آدمی نے کہا: اس سے مراد مسجد ِ قباء ہے۔ وہ دونوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد تو میری یہی مسجد یعنی مسجد نبوی ہے، ہاں مسجد قباء میں بھی بہت زیادہ خیر و بھلائی ہے۔