الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
البابُ السَّابِعُ فِيمَا جَاءَ فِي خَرَابِ الْمَدِينَةِ آخِرَ الزَّمَانِ باب: ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12668
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ: ”لَتَتْرُكَنَّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے متعلق فرمایا: تم لوگ خوش حالی کے باوجود اس شہر کو درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ مدینہ منورہ سے خلافت شام و عراق کی طرف منتقل ہوجانے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حالات قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر نے مختلف شواہد بھی ذکر کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو:فتح الباری: ۴/ ۱۱۱، ۱۱۲)