حدیث نمبر: 12663
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی یعنی اپنی فضیلت و مرتبہ کے لحاظ سے سب پر غالب آجائے گی، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ یہ مدینہ ہے، یہ منافق اوربد کردار لوگوں کو یوں نکال دے گا، جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … بعض دوسری احادیث کے مطابق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں یثرب کا ذکر کیا گیا، اس حدیث سے کراہت کا ہلکا سا اشارہ ملتا ہے کہ مدینہ کو یثرب نہیں کہنا چاہیے، طابہ، طیبہ یا مدینہ کہنا چاہیے۔ ویسے یثرب تثریب سے ماخوذ ہے، جس کے معانی زجر و توبیخ اور ملامت کے ہیں، جبکہ طابہ اور طیبہ کے الفاظ میں حسن پایا جاتا ہے، ان کے معانی پاکیزگی، عمدگی اور خوشگواری کے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12663
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1871، ومسلم: 1382 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7231»