الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12646
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مدینہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبرکرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔