الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12645
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ عَنِ الْمَدِينَةِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو سعید واقعہ حرہ کے ایام میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مدینہ سے نقل مکانی کے بارے میں مشورہ کیا اور اوپر والی حدیث والا واقعہ بیان کیا، آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا (جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا)، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوگا۔