الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عِيَالًا وَلِي عِيَالٌ وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا قَالَ وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میرے بھائی کا انتقال ہوگیا، میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، میں نے کہا: ابو سعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیاہے، وہ اہل و عیال چھوڑ گیا ہے، میرے اپنے بھی بال بچے ہیں، ہمارے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے، میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنے اور بھائی کے اہل وعیال کو لے کر کسی دوسرے علاقہ میں چلا جاؤں تاکہ وہاں ہمارے معاشی حالات کچھ بہتر ہوجائیں، انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس، مدینہ چھوڑ کر مت جانا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ منورہ میں آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔