الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12643
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ فِيهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ فَيَجِدُونَ رَخَاءً ثُمَّ يَأْتُونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لوگ خوش حالی کی تلاش میں مدینہ سے نقل مکانی کر کے ادھر اُدھر چلے جائیں گے، جب وہ وہاں خوش حالی پائیں گے تو آخر اپنے اہل و عیال کو بھی وہیں لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو مدینہ ان کے لیے بہر حال بہتر ہوگا۔