الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12641
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت سے دوسرے علاقے اور شہر فتح ہوں گے توکچھ لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے: آؤ ادھر چلیں، وہاں خوش حالی ہے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے حق میں بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جانیں، جو بھی آدمی مدینہ منورہ میں مشکلات وشدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ یا سفارشی بنو ں گا۔