الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12640
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُفْتَحُ الْأَرْيَافُ فَيَأْتِي نَاسٌ إِلَى مَعَارِفِهِمْ فَيَذْهَبُونَ مَعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ قَالَهَا مَرَّتَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوشحالی اور آسودگی والی زمین فتح ہوگی تو کچھ لوگ اپنے دوستوں کے ہمراہ ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے لیے بہتر ہوگی، لیکن کاش وہ یہ بات جان لیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔