الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12638
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ اسے مدینہ میں موت آئے تو اس کی ضرور کوشش کرے، کیونکہ جو لوگ یہاں فوت ہوں گے، میں ان کے حق میں سفارش کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کامقصود یہ ہے کہ لوگ مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کریں، تبھی اُدھر موت آ ئے گی۔