الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا باب: سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12637
عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا اجْلِسِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے زبیر یحنس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی خادمہ ان کے پاس آئی اور اس نے حالات کی شدت کا شکوہ کیا، وہ چاہتی تھی کہ مدینہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلی جائے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: بیٹھ جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والی تکالیف اور مصائب پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔