حدیث نمبر: 12636
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: ”كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ حَرَمَهُ، لَا يُقْطَعُ عِضَاهَا، وَلَا يُقْتَلُ صَيْدُهَا، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَلَا يُرِيدُهُمْ أَحَدٌ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ ذَوْبَ الرَّصَاصِ فِي النَّارِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے حرم کو حرمت والا بنایاکہ یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے، یہاں شکار نہ کیا جائے اورجو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو لے آتاہے، جو آدمی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے یوں پگھلا دے گا، جیسے آگ میں پیتل یا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12636
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1606»