حدیث نمبر: 12635
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا، وَقَالَ: الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَؤْمِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ القِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی زمین کو حرم قرار دیتاہوں، یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے اور کوئی شکار نہ کیا جائے۔ نیز فرمایا: مدینہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہو گا، کاش کہ یہ لوگ اس بات سے واقف ہوتے،ـ جو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو اس میں لے آتاہے، جو آدمی یہاں کی پریشانیوں اور شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔

وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ میں وہی رہے گا، جس کے ایمان میں رسوخ ہو گا۔ مدینہ منورہ میں بسیرا کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی منقبت سمجھیں اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12635
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1363 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1573»