الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَاب الثَّانِي فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِلْمَدِينَةِ وَأَهْلِهَا بِالْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَأَنْ يَذْهَبَ اللَّهُ مِنْهَا الْوَبَاءَ باب: دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا، فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہ روئے زمین پر سب سے زیادہ وبا زدہ زمین تھی، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت بھی اسی طرح ڈال دے، جیسے ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ہے، یا اس سے بھی زیادہ محبت ڈال اور اسے بیماریوں سے پاک کر کے صحت و پاکیزگی والا بنا دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے حجفہ میں منتقل کر دے۔