الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَاب الثَّانِي فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِلْمَدِينَةِ وَأَهْلِهَا بِالْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَأَنْ يَذْهَبَ اللَّهُ مِنْهَا الْوَبَاءَ باب: دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّةِ عِنْدَ بُيُوتِ السُّقْيَا، ثُمَّ قَالَ: ”اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَكَ وَعَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ، نَدْعُوكَ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ وَثِمَارِهِمْ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ، وَاجْعَلْ مَا بِهَا مِنْ وَبَاءٍ بِخُمٍّ، اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمْتَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَمَ“سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور پھر حرہ میں واقع سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی جگہ میں سقیا کے گھروں کے قریب نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: اے اللہ! تیرے خلیل، بند ے اور نبی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، میں محمد تیرا بندہ، نبی اور رسول ہوں، میں تجھ سے اہل مدینہ کے لیے اسی طرح دعا کرتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اہل مدینہ کے صاع،مد اور پھلوں میں برکت فرما، اے اللہ! تو نے جس طرح ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت رکھی ہے، اسی طرح مدینہ کی محبت بھی ہمارے دلوں میں ڈال دے اور یہاں کی وبا اور بیماری کو (جحفہ کے قریب) خُم میں منتقل کردے، اے اللہ! جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام کی زبانی مکہ کو حرم قرار دیا ہے، اسی طرح میں مدینہ کی دوحرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔