الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَاب الثَّانِي فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِلْمَدِينَةِ وَأَهْلِهَا بِالْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَأَنْ يَذْهَبَ اللَّهُ مِنْهَا الْوَبَاءَ باب: دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12630
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَظَرَ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ“، وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَ نَحْوَ ذَلِكَ، وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کی طرف رخ کیا اور یہ دعا کی: اے اللہ! ان کے دلوں کو ادھر مائل کردے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی جانب اور پھر ہر افق کی جانب رخ کر کے یہی دعا فرمائی اور پھر فرمایا: اے اللہ! ہمیں زمین کے پھلوں کا رزق عطا فرما اور ہمارے مد اور صاع میں برکت فرما دے۔