حدیث نمبر: 12625
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ائْتُونِي بِوَضُوءٍ“ فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں باہر گئے، جب ہم حرّہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے کنوئیں پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کا پانی لاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر کے قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور پھر فرمایا: اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل تھے، انہوں نے مکہ والوں کے لیے برکت کی دعا کی تھی، میں محمد بھی تیرا بندہ اور رسول ہوں، میں تجھ سے اہل مدینہ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ ان کے مد اور صاع میں اہل مکہ سے دو گنا زیادہ برکت کر دے۔

وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، دونوں شہروں میں بسیرا کرنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت کو محسوس کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح،اخرجه الترمذي: 3914 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 936»