الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا باب: مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12624
عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إِهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ قَالَ فَرَآنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ فَيَنْزِعُهُ مِنِّي فَيُرْسِلُهُ وَيَقُولُ أَيْ بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن عباد زرقی سے مروی ہے کہ وہ اِہاب کنویں کے قریب چڑیوں کا شکا رکر رہے تھے، یہ ان کا اپنا کنواں تھا، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھے وہاں دیکھ لیا، جبکہ میں نے ایک چڑیا پکڑی ہوئی تھی، انہوں نے وہ مجھ سے چھین کر چھوڑ دی اور کہا: پیارے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔