حدیث نمبر: 12621
عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ قَالَ دَخَلْتُ الْأَسْوَاقَ وَقَالَ فَأَثَرْتُ وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً فَأَخَذْتُ دُبْسَتَيْنِ قَالَ وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا قَالَ فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَنَزَعَ مِتِّيخَةً قَالَ فَضَرَبَنِي بِهَا فَقَالَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا مَرْيَمُ لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِهِ وَمِنْ تَكْسِيرِ الْمِتِّيخَةِ فَقَالَ لِي أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یحیی بن عمارہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بازار میں داخل ہوا تو میں نے دو چھوٹے چھوٹے پرندے دیکھے، جن پر ان کی ماں اپنے پر پھیلائے بیٹھی تھی، میں نے ان کو پکڑ نا چاہا تواچانک ابو حسن آگئے، انہوں نے کھجور کی شاخ کھینچی اور مجھے مار دی، تو ہمارے خاندان کی ایک خاتون، جس کا نام مریم تھا، اس نے کہا: تو اس کے بازو اور کھجور کی شاخ توڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12621
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه مختصرا الطبراني في الكبير : 22/ 981 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16831»