الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا باب: مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12618
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلِيَّةُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ“ وَسُئِلَ عَنِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”حَرَامٌ آمِنٌ حَرَامٌ آمِنٌ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی طرف ایک قوم ظاہر ہو گی ، ان کے سر منڈے ہوں گے اور وہ فتنوں میں مبتلا ہو گی ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدینہ منورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حرم ہے ، امن کی جگہ ہے ، یہ حرم ہے ، امن کی جگہ ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … مشرق کی طرف سے نکلنے والی قوم سے مراد خوارج ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا۔